کراچی سے کینجھر جھیل کا سفر
کراچی سے کینجھر جھیل(ٹھٹھہ) – ایک دن کا یادگار سفرنامہ
تحریر: زبیر شاہ
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ شہر کی ہلچل سےدور قدرت کے قریب کچھ وقت گزارا جائے۔ ایسا ہی ایک لمحہ آیا جب میں نے اور میرے چند دوستوں نے کینجھر جھیل کا رخ کیا۔"
🚗 روانگی کی تیاری
ہم نے اپنا سفر صبح 7 بجے گلشن حدید سے شروع کیا۔ موسم خوشگوار تھا اور ہلکی دھوپ تھی۔ چائے کے کپ کے ساتھ ناشتہ کر کے ہم نے گاڑی میں اپنا سامان رکھا، جس میں پانی، اسنیکس، اسپیکر،باربی کیو کا سامان،چائےکا سامان،کوئلے اور ایک انگھیٹی اور ضروری چیزیں شامل تھیں۔
🛣️ راستہ کیسا تھا؟
گلشن حدید سے کینجھر جھیل کا فاصلہ تقریباً 95 کلومیٹر ہے۔ ہم نے نیشنل ہائی وے (N-5) کا راستہ ہے۔ سڑک سے سفر کا آغاز کیا،
راستے میں کئی دیہاتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ بچے کھیتوں میں کھیلتے، بزرگ درختوں کے سائے میں بیٹھے، اور کھلی فضا میں چرنے والے مویشی — سب کچھ قدرتی اور دل کو سکون دینے والا منظر پیش کر رہا تھا۔
🏞️ کینجھر جھیل پر پہنچنا
ٹھٹھہ سے ہم بریانی پیک کروائی۔کیونکہ کچھ دوستوں کو بھوک بھی لگ رہی تھی۔وہاں جاتے ہی سب سے پہلے بریانی کھانے کا موڈ تھا۔لیکن اس ہے پہلے جو مشکل اور کٹھن کام ہے وہ ہے ہٹ لینا۔وہاں کے لوگ آپ سے ہٹ کے پیسے بتائیں گے جیسے ہم نے 3 سٹار ہوٹل کا کمرہ لینا ہو۔اور حالت اتنی خستہ کے نہ پوچھو۔خیر بڑی مشکل سے اور بحث ومباحثہ کے بعد ہٹ لے ہی لیا۔ہم
تقریباً ساڑھے 9 بجے ہم کینجھر جھیل پہنچ گئے۔ جھیل کا پہلا نظارہ ہی دل کو چھو گیا۔
پانی کی وسعت، اردگرد کے درخت، ہلکی ہلکی ہوا اور پرندوں کی آواز — ایسا لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔
ہم نے گاڑیوں سے اپنا سامان نکالا اور سیٹنگ سے رکھ دیا۔اور ٹیوب والوں سے ٹیوب لیں۔۔ڈریس تبدیل کیے۔اور نہانے کیلئے پانی میں گھس گئے
🚣♂️ کشتی کی سواری (Boating)
ہم نے ایک کشتی کرائے پر لی، جو تقریباً 500 روپے فی راؤنڈ میں ملی۔ کشتی بان نے ہمیں جھیل کے وسط تک لے جا کر تاریخ سنائی یہ سندھ کی سب سے بڑی تازہ پانی کی جھیل ہے، جس سے کراچی کو پانی بھی فراہم کیا جاتاہےہ
🍽️ کھانا اور مزے
ہم نے اپنا کھانا ساتھ لائے تھے – بریانی، ٹھنڈا پانی، فروٹ اور نمکو۔ ساتھ ساتھ باربی کیو کا سیٹ اپ تیار کیا۔۔کوئلے جلانا سب سے مشکل کام ہے۔ہاں یہاں پر اگر کوئی لیڈیز ہو تو زیادہ آسان ہو جائے گا کیونکہ وہ آگ لگانا اچھے سے جانتی ہیں۔۔اوہ معزرت آگ لگانا۔۔سمجھ گئے ہوگے کیا کہنا چاہتا ہوں۔
📸 یادیں اور واپسی
بوئے ہم نے خوب تصاویر لیں، کچھ نے پانی میں پاؤں بھی ڈ دوپہر 3 بجے کے قریب ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ جاتے جاتے ہم نے دعا کی کہ ایسی جگہوں کی صفائی، خوبصورتی اور قدرتی حسن ہمیشہ قائم رہے۔
📌 سفر کے چند مشورے:
پانی، سن بلاک، اور کیمرہ لازمی ساتھ رکھیں
جھیل کے کنارے بہت دھوپ ہوتی ہے، ٹوپی یا چشمہ ساتھ رکھیں
اگر خاندان کے ساتھ جائیں تو Picnic کا سامان اور صفائی کا خاص خیال رکھیں
کوشش کریں کہ کچرا واپس لے آئیں
❓آپ کا تجربہ؟
کیا آپ نے کبھی کینجھر جھیل کا سفر کیا ہے؟
اگر ہاں، تو آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
تبصرے میں ضرور بتائیں۔ 😊
🔚
یہاں ہم اپنا سفرنامہ ختم کرتے ہیں – لیکن یادیں باقی ہیں
اگر آپ کو میرا سفرنامہ پسند آیا ہو تو میرے بلاگ کو لائک ۔
کریں اور مزید سفرناموں کے لیے میرے ساتھ جڑے رہیں
Comments
Post a Comment